
Ziyarat Nahiya Al Muqaddasa - Arabic with English Translation (HD)
زیارتِ ناحیہ مقدسہ
قسم: زیارت | منسوب بحضور: امام مہدی صاحب الزمان (عج) | مستحب وقت: روزِ عاشورہ و تمام ایام | ماخذ: اقبال الاعمال / المزار الکبیر
زیارتِ ناحیہ مقدسہ
قسم: زیارت | منسوب بحضور: امام مہدی صاحب الزمان (عج) | مستحب وقت: روزِ عاشورہ و تمام ایام | ماخذ: اقبال الاعمال / المزار الکبیر
حضرت امام مہدی (عج) کی زبانِ مبارک سے صادر ہونے والی یہ زیارتِ حزینہ حضرت امام حسین (ع) اور ان کے شہدائے کربلا پر ندبہ و رثاء کو بیان کرتی ہے: "میں صبح و شام آپ پر نوحہ کروں گا اور آنسوؤں کے بجائے خون کے آنسو روؤں گا۔"
Ziyarat Nahiya
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيم
اَلسَّلامُ عَلى آدَمَ صِفْوَةِ اللهِ مِنْ خَليقَتِهِ،
سلام آدم پر جو برگزیدہء خدا اور خلیفہ خدا ہیں
اَلسَّلامُ عَلى شَيْثٍ وَلِيِّ اللهِ وَ خِيَرَتِهِ،
سلام شیث پر جو ولی خدا اور پسندیدہ خدا ہیں
اَلسَّلامُ عَلى إدْريسَ الْقائِمِ للهِِ بِحُجَّتِهِ،
سلام ادریس پر جو اپنی دلیل کے ساتھ (جنت میں) مقیم ہیں
اَلسَّلامُ عَلى نُوحٍ الْمُجابِ في دَعْوَتِهِ،
سلام نوح پر جن کی دعا قبول کی گئی
اَلسَّلامُ عَلى هُودٍ الْمَمْدُودِ مِنَ اللهِ بِمَعُونَتِهِ،
سلام ہود پر جن کی اللہ کی طرف سے مخصوص مدد کی گئی
اَلسَّلامُ عَلى صالِحِ الَّذي تَوَّجَهُ اللهُ بِكَرامَتِهِ،
سلام صالح پر جن کو اللہ نے اپنے کرم سے ذی شان قرار دیا
اَلسَّلامُ عَلى إبْراهيمَ الَّذي حَباهُ اللهُ بِخُلَّتِهِ،
سلام ابراہیم پر جن کو اللہ نے اپنی خلت سے سر فراز کیا
اَلسَّلامُ عَلى إسْماعيلَ الَّذي فَداهُ اللهُ بِذِبْحٍ عَظيمٍ مِنْ جَنَّتِهِ،
سلام اسماعیل پر جن کو اللہ نے ذبح عظیم کی قرار داد کے ساتھ اپنی جنت سے فدیہ بھیجا
اَلسَّلامُ عَلى إسْحاقَ الَّذي جَعَلَ اللهُ النُّبُوَّةَ في ذُرِّيَّتِهِ،
سلام اسحاق پر جن کی ذریت میں اللہ نے نبوت کا سلسلہ رکھا
اَلسَّلامُ عَلى يَعْقُوبَ الَّذي رَدَّ اللهُ عَلَيْهِ بَصَرَهُ بِرَحْمَتِهِ،
سلام یعقوب پر جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دوبارہ بینائی دی
اَلسَّلامُ عَلى يُوسُفَ الَّذي نَجّاهُ اللهُ مِنَ الْجُبِّ بِعَظَمَتِهِ،
سلام یوسف پر جن کو خدا نے اپنا کرم عظیم فرما کر کنویں سے نجات دی
اَلسَّلامُ عَلى مُوسَى الَّذي فَلَقَ اللهُ الْبَحْرَ لَهُ بِقُدْرَتِهِ،
سلام موسی پر جن کے لئے خدا نے اپنی قدرت سے دریا کو شگافتہ کردیا
اَلسَّلامُ عَلى هارُونَ الَّذي خَصَّهُ اللهُ بِنُبُوَّتِهِ،
سلام ہارون پر جن کو خدا نے اپنی نبوت سے مخصوص فرمایا
اَلسَّلامُ عَلى شُعَيْبِ الَّذي نَصَرَهُ اللهُ عَلى اُمَّتِهِ،
سلام شعیب پر جن کو خدا نے ان کی امت پر غالب کیا
اَلسَّلامُ عَلى داوُدَ الَّذي تابَ اللهُ عَلَيْهِ مِنْ خَطيئَتِهِ،
سلام داؤد پر جن کے ترک اولی کو الله نے معاف کر دیا
اَلسَّلامُ عَلى سُلَيْمانَ الَّذي ذَلَّتْ لَهُ الْجِنُّ بِعِزَّتِهِ،
سلام سلیمان پر جن کے لئے خدا کی دی ہوئی عزت کی بدولت قومِ جن تابع ہوگئی
اَلسَّلامُ عَلى أيُّوبَ الَّذي شَفاهُ اللهُ مِنْ عِلَّتِهِ،
سلام ہو ایوب پر جن کو الله نے بیماری سے شفا دی
اَلسَّلامُ عَلى يُونُسَ الَّذي أنْجَزَ اللهُ لَهُ مَضْمُونَ عِدَتِهِ،
سلام یونس پر خدا نے ان کے اس وعده کو پورا کیا جس کی انہوں نے ضمانت کی تھی
اَلسَّلامُ عَلى عُزَيْرِ الَّذي أحْياهُ اللهُ بَعْدَ ميتَتِهِ،
سلام عزیر پر جن کو خدا نے مرنے کے بعد دوباره زنده کیا
اَلسَّلامُ عَلى زَكَرِيّا الصّابِرِ في مِحْنَتِهِ،
سلام زکریا پر جو اپنی شدید آزمائش میں بھی صابر رہے
اَلسَّلامُ عَلى يَحْيَى الَّذي أزْلَفَهُ اللهُ بِشَهادَتِهِ،
سلام یحیی پر جن کا مرتبہ الله نے ان کی شہادت سے اور بڑھادیا
اَلسَّلامُ عَلى عيسى رُوحِ اللهِ وَ كَلِمَتِهِ،
سلام عیسی پر جو بزبانِ وحی الله کی روح اور الله کا کلمہ ہیں
اَلسَّلامُ عَلى مُحَمَّدٍ حَبيبِ اللهِ وَ صِفْوَتِهِ،
سلام محمد مصطفی (ص) پر جو محبوب خدا اور پسندیده خدا ہیں
اَلسَّلامُ عَلى أميرِالْمُؤْمِنينَ عَلِيِّ بْنِ أبي طالِبٍ الْمَخْصُوصِ بِاُخُوَّتِهِ،
سلام امیر المومنین علی ابن ابی طالب پر جن کو پیغمبر کے بھائی ہونے کا مخصوص شرف دیا گیا
اَلسَّلامُ عَلى فاطِمَةَ الزَّهْراءِ ابْنَتِهِ،
سلام فاطمہ زہرا دختر رسول پر
اَلسَّلامُ عَلى أبي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ وَصِيِّ أبيهِ وَ خَليفَتِهِ،
سلام ابو محمد حسن مجتبی پر جو اپنے باپ کے وصی وجانشین ہیں
اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَيْنِ الَّذي سَمَحَتْ نَفْسُهُ بِمُهْجَتِهِ،
سلام حسین پر جنہوں نے راهِ خدا میں انتہائی زخمی ہونے کے بعد جو جان جسم میں باقی ره گئی تھی وه بھی دے دی
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ أطاعَ اللهَ في سِرِّهِ وَ عَلانِيَتِهِ،
اس پر سلام جس نے مخفی اور آشکار خدا کی عبادت کی
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ جَعَلَ اللهُ الشِّفاءَ في تُرْبَتِهِ،
اس پر سلام جس کی خاک میں اللہ نے اثر شفا قرار دیا
اَلسَّلامُ عَلى مَنِ الإجابَةُ تَحْتَ قُبَّتِهِ،
سلام اس پر کہ جس کی قبہ کے نیچے دعائیں قبول ہوتی ہیں
اَلسَّلامُ عَلى مَنِ الأئِمَّةُ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ،
اس پر سلام جس کی ذریت سے قیامت تک امام رہیں گے
اَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ خاتَمِ الأنْبِياءِ،
آخری پیغمبر کے فرزند پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ سَيِّدِ الأوْصِياءِ،
سردار اوصیاء علی (ع) کے فرزند پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ فاطِمَةَ الزَّهْراءِ،
فاطمۃ الزہرا (س) کے فرزند پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ خَديجَةَ الْكُبْرى،
خدیجہ بزرگ مرتبہ کے فرزند پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ سِدْرَةِ الْمُنْتَهى،
سدرة المنتہی کے وارث پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ جَنَّةِ الْمَأْوى،
جنت جیسی پناه گاه کے وارث پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى ابْنِ زَمْزَمَ وَ الصَّفا،
زمزم وصفا کے وارث پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى الْمُرَمَّلِ بِالدِّماءِ،
آلوده خاک وخون پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى الْمَهْتُوكِ الْخِباءِ،
سلام اس پر جس کا خیمہ پھاڑ ڈالا گیا
اَلسَّلامُ عَلى خامِسِ أصْحابِ الْكِساءِ،
چادرِ تطہیر والوں کی پانچویں فرد پر سلام
اَلسَّلامُ عَلى غَريبِ الْغُرَباءِ،
مسافروں میں سب سے زیاده بیکس مسافر پر سلام
اَلسَّلامُ عَلى شَهيدِ الشُّهَداءِ،
شہیدوں میں سب سے زیاده پر درد شہید پر سلام
اَلسَّلامُ عَلى قَتيلِ الأدْعِياءِ،
اس پر سلام جس کو مجہول النسب لوگوں نے قتل کیا
اَلسَّلامُ عَلى ساكِنِ كَرْبَلاءَ،
ساکنِ ارضِ کربلا پر سلام
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ بَكَتْهُ مَلائِكَةُ السَّماءِ،
اس پر سلام جس کو آسمان کے فرشتے روئے
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ ذُرِّيَّتُهُ الأزْكِياءُ،
اس پر سلام جس کی نسل سے ائمہ اطہار ہیں
اَلسَّلامُ عَلى يَعْسُوبِ الدّينِ،
سلام دین کے سردار پر
اَلسَّلامُ عَلى مَنازِلِ الْبَراهينِ،
سلام ان (ائمہ) پر جو حق کی منزلیں ہیں
اَلسَّلامُ عَلَى الأئِمَّةِ السّاداتِ،
سلام ان ائمہ پر جو پیشوائے ملت ہیں
اَلسَّلامُ عَلَى الْجُيُوبِ الْمُضَرَّجاتِ،
ان گریبانوں پر سلام جو خون میں بھرے تھے
اَلسَّلامُ عَلَى الشِّفاهِ الذّابِلاتِ،
ان ہونٹوں پر سلام جو پیاس سے سوکھے ہوئے تھے
اَلسَّلامُ عَلَى النُّفُوسِ الْمُصْطَلَماتِ،
سلام ان پر جو ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے
اَلسَّلامُ عَلَى الأرْواحِ الْمُخْتَلَساتِ،
سلام ان پر جن کو قتل کے فوراً بعد لوٹ لیا گیا
اَلسَّلامُ عَلَى الأجْسادِ الْعارِياتِ،
سلام ہو بے گور وکفن نعشوں پر
اَلسَّلامُ عَلَى الْجُسُومِ الشّاحِباتِ،
[سلام ہو ان جسموں پر دهوپ کی شدت سے جن کے رنگ بدل گئے]
اَلسَّلامُ عَلَى الدِّماءِ السّائِلاتِ،
(ارض کربلا پر) بہنے والے خون پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى الأعْضاءِ الْمُقَطَّعاتِ،
جسموں سے جدا کردیئے جانے والے اعضاء پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى الرُّؤُوسِ الْمُشالاتِ،
نیزوں پر اٹھائے جانے والے سروں پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى النِّسْوَةِ الْبارِزاتِ،
بے ردا ہوجانے والی مستورات پر سلام
اَلسَّلامُ عَلى حُجَّةِ رَبِّ الْعالَمينَ،
حجت پروردگار عالم پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ وَ عَلى آبائِكَ الطّاهِرينَ،
آپ پر سلام اور آپ کے پاکیزه آباء واجداد پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ وَ عَلى أبْنائِكَ الْمُسْتَشْهَدينَ،
آپ پر سلام اور آپ کے شہید ہونے والے فرزندوں پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ وَ عَلى ذُرِّيَّتِكَ النّاصِرينَ،
آپ پر سلام اور حمایت حق کرنے والی آپ کی ذریت پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ وَ عَلَى الْمَلائِكَةِ الْمُضاجِعينَ،
آپ پر اور آپ کے پہلو میں رہنے والے فرشتوں پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى الْقَتيلِ الْمَظْلُومِ،
سلام قتل کئے جانے والے مظلوم پر
اَلسَّلامُ عَلى أخيهِ الْمَسْمُومِ،
سلام ان کے بھائی (حسن مجتبی ع) پر جن کو زہر دیا گیا
اَلسَّلامُ عَلى عَلِيٍّ الْكَبيرِ،
سلام جناب علی اکبر پر
اَلسَّلامُ عَلَى الرَّضيعِ الصَّغيرِ،
[سلام] کم سن شیرخوار پر
اَلسَّلامُ عَلَى الأبْدانِ السَّليبَةِ،
سلام ان جسموں پر جن کو (بعد شہادت) لوٹا گیا
اَلسَّلامُ عَلَى الْعِتْرَةِ الْقَريبَةِ [الْغََريبَةِ]،
سلام نبی کی قریب ترین ذریت پر
اَلسَّلامُ عَلَى الْمُجَدَّلينَ فِي الْفَلَواتِ،
سلام ان لاشوں پر جن کو بیابان میں پڑا چھوڑ دیا گیا
اَلسَّلامُ عَلَى النّازِحينَ عَنِ الأوْطانِ،
سلام ان مسافروں پر جو اپنے وطن سے دور تھے
اَلسَّلامُ عَلَى الْمَدْفُونينَ بِلا أكْفان،
سلام بے کفن دفن کئے جانے والوں پر
اَلسَّلامُ عَلَى الرُّؤُوسِ الْمُفَرَّقَةِ عَنِ الأبْدانِ،
سلام ان سروں پر جن کو جسموں سے جدا کر دیا گیا
اَلسَّلامُ عَلَى الْمُحْتَسِبِ الصّابِرِ،
راهِ خدا میں اذیّت اٹھانے والے صابر پر سلام
اَلسَّلامُ عَلَى الْمَظْلُومِ بِلا ناصِر،
عالم بیکسی میں ظلم کئے جانے والے پر سلام
اَلسَّلامُ عَلى ساكِنِ التُّرْبَةِ الزّاكِيَةِ،
خاکِ پاک پر رہنے والے پر سلام
اَلسَّلامُ عَلى صاحِبِ الْقُبَّةِ السّامِيَةِ،
قبۂ بلند رکھنے والے پر سلام
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ طَهَّرَهُ الْجَليلُ،
اس پر سلام جس کو خدائے بزرگ نے پاکیزه و پاک قرار دیا
اَلسَّلامُ عَلى مَنِ افْتَخَرَ بِهِ جَبْرَئيلُ،
اس پر سلام جس پر جبریل نے فخر کیا
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ ناغاهُ فِي الْمَهْدِ ميكائيلُ،
اس پر سلام جس کو گہواره میں میکائیل نے لوریاں دیں
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ نُكِثَتْ ذِمَّتُهُ،
اس پر سلام جس کے بارے میں عہد وپیماں کو توڑ دیا گیا
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ هُتِكَتْ حُرْمَتُهُ،
اس پر سلام جس کی حرمت کو ضائع کیا گیا
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ اُريقَ بِالظُّلْمِ دَمُهُ،
اس پر سلام جس کا خون ظلم سے بہایا گیا
اَلسَّلامُ عَلَى الْمُغَسَّلِ بِدَمِ الْجِراحِ،
اس پر سلام جس کو زخموں سے بہنے والے خون میں نہلادیا گیا
اَلسَّلامُ عَلَى الْمُجَرَّعِ بِكَأْساتِ الرِّماحِ،
اس پر سلام جس کو ہر طرف سے نیزے لگائے جاتے تھے
اَلسَّلامُ عَلَى الْمُضامِ الْمُسْتَباحِ،
اس پر سلام جس پر ہر ظلم و ستم روا رکھا گیا
اَلسَّلامُ عَلَى الْمَنْحُورِ فِي الْوَرى،
[اس پر سلام جسے اتنی بڑی کائنات میں یکہ و تنہا چھوڑدیا گیا]
اَلسَّلامُ عَلى مَنْ دَفَنَهُ أهْلُ الْقُرى،
اس پر سلام جس کو گرد ونواح کے گاؤں والوں نے دفن کیا
اَلسَّلامُ عَلَى الْمَقْطُوعِ الْوَتينِ،
اس پر سلام جس کی شہ رگ کو (بے دردی سے) کاٹا گیا
اَلسَّلامُ عَلَى الْمُحامي بِلا مُعين،
اس پر سلام جو یکہ وتنہا دشمنوں کی یلغار کو ہٹا رہا تھا
اَلسَّلامُ عَلَى الشَّيْبِ الْخَضيبِ،
اس ریش اقدس پر سلام جو خون سے سرخ تهی
اَلسَّلامُ عَلَى الْخَدِّ التَّريبِ،
اس رخسار پر سلام جو خاک آلود تھا
اَلسَّلامُ عَلَى الْبَدَنِ السَّليبِ،
اس بدن پر سلام جو غبارآلود تھا (اس لٹے اور نچے ہوئے بدن پر سلام)
اَلسَّلامُ عَلَى الثَّغْرِ الْمَقْرُوعِ بِالْقَضيبِ،
ان دانتوں پر سلام جن پر ظلم کی چھڑی چل رہی تھی
اَلسَّلامُ عَلَى الرَّأْسِ الْمَرْفُوعِ،
اس [سر اقدس] پر سلام جو نیزه پر اٹھایا گیا
اَلسَّلامُ عَلَى الأجْسامِ الْعارِيَةِ فِي الْفَلَواتِ، تَنْهَشُهَا الذِّئابُ الْعادِياتُ، وَ تَخْتَلِفُ إلَيْهَا السِّباعُ الضّارِياتُ،
ان جسموں پر سلام جو بیابان میں برہنہ پڑے تھے جن کو ستمگارانِ امت بھیڑیوں کی طرح دوڑ دوڑ کر جھنجھوڑ رہے تھے اور کٹ کھنے درندے بن کر (پامالی اور لوٹ کھسوٹ کے لئے) منڈلا رہے تھے
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مَوْلايَ وَ عَلَى الْمَلائِكَةِ الْمُرَفْرَفينَ حَوْلَ قُبَّتِكَ،
میرے مولا آپ پر سلام اور آپ کے قبہ کے گرد جمع رہنے والے فرشتوں پر سلام جو آپ کی تربت کو گھیرے رہتے ہیں
الْحافّينَ بِتُرْبَتِكَ، الطّائِفينَ بِعَرْصَتِكَ، الْوارِدينَ لِزِيارَتِكَ،
اور آپ کے صحنِ اقدس کا طواف کرتے ہیں اور آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوتے ہیں
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ فَإنّي قَصَدْتُ إلَيْكَ، وَ رَجَوْتُ الْفَوْزَ لَدَيْكَ،
آپ پر سلام، میں نے آپ کی جانب رخ کیا ہے اور آپ کی بارگاه سے کامیابی کا امیدوار ہوں
اَلسَّلامُ عَلَيْكَ
آپ پر سلام
سَلامَ الْعارِفِ بِحُرْمَتِكَ، الْمُخْلِصِ في وِلايَتِكَ، الْمُتَقَرِّبِ إلَى اللهِ بِمَحَبَّتِكَ، الْبَريءِ مِنْ أعْدائِكَ،
آپ پر سلام آپ کی حرمت کو پہچاننے والے کا
سَلامَ مَنْ قَلْبُهُ بِمُصابِكَ مَقْرُوحٌ، وَ دَمْعُهُ عِنْدَ ذِكْرِكَ مَسْفُوحٌ،
اس کا سلام جس کا دل آپ کے غم سے زخمی ہے
سَلامَ الْمَفْجُوعِ الْحَزينِ، الْوالِهِ الْمُسْتَكينِ،
اور آپ کے ذکر کے وقت اس کی آنکهوں سے آنسو جاری رہتے ہیں جو آپ کے مصائب سے نہایت دردمند ملول اور بے حال ہے
سَلامَ مَنْ لَوْ كانَ مَعَكَ بِالطُّفُوفِ، لَوَقاكَ بِنَفْسِهِ حَدَّ السُّيُوفِ، وَ بَذَلَ حُشاشَتَهُ دُونَكَ لِلْحُتُوفِ،
اس کا سلام جو میدانِ کربلا میں اگر آپ کے ساتھ ہوتا تو تلواروں کی باڑھ پر اپنی جان کو ڈال دیتااور آمادہ موت ہوکر اپنے خون کا آخری قطرہ آپ پر نثار کردیتا
وَ جاهَدَ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَ نَصَرَكَ عَلى مَنْ بَغى عَلَيْكَ، وَ فَداكَ بِرُوحِهِ وَ جَسَدِهِ وَ مالِهِ وَ وَلَدِهِ،
اور باغیوں کے مقابلہ میں آپ کے سامنے جہاد کرکے آپ کی نصرت کرتا اور اپنی روح
وَ رُوحُهُ لِرُوحِكَ فِداءٌ،
اپنا مال اور اپنی اولاد سب کچھ آپ پر فدا کردیتا
وَ أهْلُهُ لِأهْلِكَ وِقاءٌ،
اس کی روح آپ کی روح پر نثار ہوتی اور اس کے اہل آپ کے اہل پر فدا ہوتے
فَلَئِنْ أخَّرَتْنِي الدُّهُورُ، وَ عاقَني عَنْ نَصْرِكَ الْمَقْدُورُ،
اب جبکہ زمانہ نے مجھے مؤخر کردیا اور اس وقت موجود نہ ہونے کی وجہ سے میرے مقدر نے مجھے آپ کی نصرت سے روک دیا
وَ لَمْ أكُنْ لِمَنْ حارَبَكَ مُحارِباً، وَ لِمَنْ نَصَبَ لَكَ الْعَداوَةَ مُناصِباً،
آپ سے لڑنے والوں سے نہ لڑسکا اور آپ کے دشمنوں کے لئے میدان میں آکر کھڑا نہ ہوسکا
فَلَأَنْدُبَنَّكَ صَباحاً وَ مَساءً وَ لَأَبْكِيَنَّ لَكَ بَدَلَ الدُّمُوعِ دَماً، حَسْرَةً عَلَيْكَ وَ تَأسُّفاً عَلى ما دَهاكَ وَ تَلَهُّفاً،
تو صبح وشام بیقراری سے آپ کے غم میں رویا کروں گا اور آنسو کے بدلہ آنکھوں سے خون بہاؤں گا
حَتّى أمُوتَ بِلَوْعَةِ الْمُصابِ، وَ غُصَّةِ الإكْتِيابِ،
اسی سوزشِ غم اسی رنج وملال کو ساتھ لے کر دنیا سے اٹھ جاؤں گا
أشْهَدُ أ نَّكَ قَدْ أقَمْتَ الصَّلوةَ، وَ آتَيْتَ الزَّكوةَ،
مولا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز کو قائم کیا
وَ أمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ، وَ نَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْعُدْوانِ،
برائیوں اور سرکشی سے روکا
وَ أطَعْتَ اللهَ وَ ما عَصَيْتَهُ، وَ تَمَسَّكْتَ بِهِ وَ بِحَبْلِهِ
آپ نے خدا کی اطاعت کی کبھی اس کی نافرمانی نہیں کی
فَأرْضَيْتَهُ وَ خَشيتَهُ وَ راقَبْتَهُ وَ اسْتَجَبْتَهُ،
آپ ہمیشہ خدا کی نا فرمانی سے ڈرے
وَ سَنَنْتَ السُّنَنَ، وَ أطْفَأْتَ الْفِتَنَ،
آپ نے ہمیشہ اس کی رضا کو پسند کیا
وَ دَعَوْتَ إلَى الرَّشادِ، وَ أوْضَحْتَ سُبُلَ السَّدادِ، وَ جاهَدْتَ فِي اللهِ حَقَّ الْجِهادِ،
آپ نے سنتِ خدا اور رسول (ص) کو قائم کیا
وَ كُنْتَ للهِِ طائِعاً،
آپ خدا کے مطیع رہے
وَ لِجَدِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ تابِعاً،
اور اپنے جد محمد مصطفی (ص) کے پیرو رہے
وَ لِقَوْلِ أبيكَ سامِعاً،
اور اپنے باپ کے تابع فرمان رہے
وَ إلى وَصِيَّةِ أخيكَ مُسارِعاً،
اور اپنے بھائی حسن (ع) کی وصیت کو جلد پورا کیا
وَ لِعِمادِ الدّينِ رافِعاً، وَ لِلطُّغْيانِ قامِعاً،
آپ ہیں ستونِ دین کو بلند کرنے والے
وَ لِلطُّغاةِ مُقارِعاً، وَ لِلأُمَّةِ ناصِحاً،
اور سرکشوں کے سروں کو ضرب نیزه و شمشیر سے کچل دینے والے
وَ في غَمَراتِ الْمَوْتِ سابِحاً،
اور موت کے بھنور تیرنے والے
وَ لِلْفُسّاقِ مُكافِحاً، وَ بِحُجَجِ اللهِ قائِماً،
اور اہل فسق وفجور کا مردانہ وار مقابلہ کرنے والے
وَ لِلإْسْلامِ وَ الْمُسْلِمينَ راحِماً،
اسلام اور مسلمین کے لئے دل میں رحم رکهنے والے
وَ لِلْحَقِّ ناصِراً، وَ عِنْدَ الْبَلاءِ صابِراً،
اور سخت آزمائش کے وقت صبر کرنے والے
وَ لِلدّينِ كالِئاً، وَ عَنْ حَوْزَتِهِ مُرامِياً،
دین کی حفاظت کرنے والے
تَحُوطُ الْهُدى وَ تَنْصُرُهُ،
اور دین پر حملہ کرنے والوں کا منہ پهیردینے والے
وَ تَبْسُطُ الْعَدْلَ وَ تَنْشُرُهُ،
اور عدل وانصاف کی نشر و اشاعت کرتے رہے
وَ تَنْصُرُ الدّينَ وَ تُظْهِرُهُ،
دین کی نصرت وحمایت کرتے رہے
وَ تَكُفُّ الْعابِثَ وَ تَزْجُرُهُ،
اور دین کی حقارت کرنے والوں کی روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہے
وَ تَأْخُذُ لِلدَّنِيِّ مِنَ الشَّريفِ،
آپ طاقتور سے کمزور کا حق دلاتے تھے
وَ تُساوي فِي الْحُكْمِ بَيْنَ الْقَوِيِّ وَ الضَّعيفِ،
اور حکم میں طاقتور اور کمزور کو برابر رکهتے تھے
كُنْتَ رَبيعَ الأيْتامِ، وَ عِصْمَةَ الأنامِ، وَ عِزَّ الإسْلامِ،
آپ یتیموں کی بہار تھے
وَ مَعْدِنَ الأحْكامِ، وَ حَليفَ الإنْعامِ،
آپ کے پاس احکام الہی کا سرمایہ تھا
سالِكاً طَرائِقَ [في طَريقَةِ] جَدِّكَ وَ أبيكَ،
اپنے جد امجد اور پدرِ نامدار کے طریقوں پر چلنے والے
مُشْبِهاً فِي الْوَصِيَّةِ لِأخيكَ،
اور اپنے بھائی کی طرح امر خیر کی ہدایت فرمانے والے
وَفِيَّ الذِّمَمِ، رَضِيَّ الشِّيَمِ،
آپ کی سخاوت اظہر من الشمس
ظاهِرَ الْكَرَمِ، مُتَهَجِّداً فِي الظُّلَمِ،
آپ کی ہر عادت بزرگانہ شان کی حامل
قَويمَ الطَّرائِقِ، كَريمَ الْخَلائِقِ، عَظيمَ السَّوابِقِ،
آپ کی ہر سبقت عظیم الشان
شَريفَ النَّسَبِ، مُنيفَ الْحَسَبِ، رَفيعَ الرُّتَبِ،
آپ کا ہر مرتبہ بلندتر
كَثيرَ الْمَناقِبِ، مَحْمُودَ الضَّرائِبِ، جَزيلَ الْمَواهِبِ،
آپ کے خصائل سب پسندیده
حَليمٌ رَشيدٌ مُنيبٌ، جَوادٌ عَليمٌ شَديدٌ،
آپ کی بخششیں نہایت قیمتی
إمامٌ شَهيدٌ، أوّاهٌ مُنيبٌ، حَبيبٌ مَهيبٌ،
خدا کے غضب سے ڈرنے والے
كُنْتَ لِلرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَلَداً،
آپ رسول (ص) کے فرزند ہیں
وَ لِلْقُرْءانِ سَنَداً [مُنْقِذاً]
قرآن کے لئے سند ہیں
وَ لِلأُمَّةِ عَضُداً،
امت کے لئے دست و بازو ہیں
وَ فِي الطّاعَةِ مُجْتَهِداً،
طاعت خدا میں تعب اٹهانے والے
حافِظاً لِلْعَهْدِ وَ الْميثاقِ،
عہد وپیمان کی حفاظت کرنے والے
ناكِباً عَنْ سُبُلِ الْفُسّاقِ،
بدکاروں کے راستوں سے الگ تھلگ
[وَ] باذِلاً لِلْمَجْهُودِ،
مصیبت زده کو عطا کرنے والے
طَويلَ الرُّكُوعِ وَ السُّجُودِ،
طولانی رکوع وسجده کرنے والے
زاهِداً فِي الدُّنْيا زُهْدَ الرّاحِلِ عَنْها،
دنیا کو اس طرح چھوڑ دینے والے جیسے دنیا سے رخصت ہونے والے دنیا سے سیر ہوتا ہے
ناظِراً إلَيْها بِعَيْنِ الْمُسْتَوْحِشينَ مِنْها،
دنیا کو آپ نے ہمیشہ نفرت کی نگاه سے دیکها
آمالُكَ عَنْها مَكْفُوفَةٌ،
آپ کی آرزوئیں دنیا سے ہٹی ہوئی تھیں
وَ هِمَّتُكَ عَنْ زينَتِها مَصْرُوفَةٌ،
دنیا کی آرائش سے آپ کوسوں دور تھے
وَ ألْحاظُكَ عَنْ بَهْجَتِها مَطْرُوفَةٌ،
رونق دنیا سے آپ کی نگاہیں پھری ہوئی تھیں
وَ رَغْبَتُكَ فِي الآخِرَةِ مَعْرُوفَةٌ،
اور دنیا جانتی ہے کہ آپ کا میلان خاطر بس آخرت کی طرف تھا
حَتّى إذَا الْجَوْرُ مَدَّ باعَهُ،
یہاں تک کہ جب ظلم وجور اپنے ہاتھ بہت بڑھانے لگا
وَ أسْفَرَ الظُّلْمُ قِناعَهُ،
اور ظلم کے چہرہ پر جو ہلکا سا پرده تھا وه بھی نہ رہا
وَ دَعَا الْغَيُّ أتْباعَهُ،
گمراہی نے اپنے چیلوں کو ہر طرف سے بلا لیا
وَ أنْتَ في حَرَمِ جَدِّكَ قاطِنٌ،
اس وقت آپ اپنے [جد امجد] کے حرم میں مقیم تھے
وَ لِلظّالِمينَ مُبايِنٌ،
ظالموں سے دور تھے
جَليسُ الْبَيْتِ وَ الْمِحْرابِ،
گوشہ نشین تھے اور محرابِ عبادت میں محوِ عبادت تھے
مُعْتَزِلٌ عَنِ اللَّذّاتِ وَ الشَّهَواتِ،
دنیا کی لذتوں اور خواہشوں سے کناره کش تهے
تُنْكِرُ الْمُنْكَرَ بِقَلْبِكَ وَ لِسانِكَ، عَلى حَسَبِ طاقَتِكَ وَ إمْكانِكَ،
اور اپنی طاقت کے مطابق اور امکان کی حد تک اپنے دل وزبان سے حرام سے بچنے کی ہدایت بھی کرتے رہے تھے
ثُمَّ اقْتَضاكَ الْعِلْمُ لِلإْنْكارِ،
(آپ سے بیعت یزید کا مطالبہ ہوا) اور آپ کے حقیقت شناس علم نے طے کرلیا کہ بیعت سے انکار ہو
وَ لَزِمَكَ [ألْزَمَكَ] أنْ تُجاهِدَ الْفُجّارَ،
اور بیعت نہ کرنے کی وجہ سے جو لوگ قتال کریں ان فاجروں سے جہاد کریں
فَسِرْتَ في أوْلادِكَ وَ أهاليكَ، وَ شيعَتِكَ وَ مَواليكَ
فوراً آپ اپنی اولاد اہلِ خاندان اپنی فرمانبردار جماعت کو لے کر چلے
وَ صَدَعْتَ بِالْحَقِّ وَ الْبَيِّنَةِ،
آپ نے حق اور روشن دلائل کو واضح کر دیا
وَ دَعَوْتَ إلَى اللهِ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ،
اور خلق خدا کو حکمت اور پسندیده موعظہ کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دی
وَ أمَرْتَ بِإقامَةِ الْحُدُودِ، وَ الطّاعَةِ لِلْمَعْبُودِ،
اور حدود شریعت کے قائم کرنے کا
وَ نَهَيْتَ عَنِ الْخَبائِثِ وَ الطُّغْيانِ،
محرمات سے بچنے اور سرکشی سے باز رہنے کا حکم دیا
وَ واجَهُوكَ بِالظُّلْمِ وَ الْعُدْوانِ،
لیکن ستمگاروں نے ظلم وعداوت سے آپ کا مقابلہ کیا
فَجاهَدْتَهُمْ بَعْدَ الإيعازِ لَهُمْ [الإيعادِ إلَيْهِمْ] وَ تَأْكيدِ الْحُجَّةِ عَلَيْهِمْ،
آپ نے پہلے تو ان کو غضب خدا سے ڈرایا اور حجت ہدایت کی مضبوطی کی
فَنَكَثُوا ذِمامَكَ وَ بَيْعَتَكَ،
آخرکار جب انہوں نے آپ کے بارے میں ہر عہد کو توڑدیا
وَ أسْخَطُوا رَبَّكَ وَ جَدَّكَ،
اور اپنی شقاوت سے انہوں نے آپ کے خدا اور آپ کے جد امجد کو غضبناک کیا
وَ بَدَؤُوكَ بِالْحَرْبِ،
اور آپ سے لڑنے کی پہل اپنی طرف سے کی
فَثَبَتَّ لِلطَّعْنِ وَ الضَّرْبِ،
تو پھر آپ بھی ضرب نیزه وشمشیر کے لئے میدان میں آگئے
وَ طَحَنْتَ جُنُودَ الْفُجّارِ، وَ اقْتَحَمْتَ قَسْطَلَ الْغُبارِ،
اور بدکاروں کے لشکروں کو پیس ڈالا، آپ جنگ کے گہرے غبار میں دھنسے ہوئے
مُجالِداً بِذِى الْفَقارِ، كَأنَّكَ عَلِيٌّ الْمُخْتارُ،
ذوالفقار سے حیدر کرار کی طرح قتال کر رہے تھے
فَلَمّا رَأوْكَ ثابِتَ الْجاشِ، غَيْرَ خائِفٍ وَ لا خاشٍ،
اعداء نے جب آپ کے دل کو مضبوط اور بالکل بے خوف و ہراس دیکھا
نَصَبُوا لَكَ غَوائِلَ مَكْرِهِمْ، وَ قاتَلُوكَ بِكَيْدِهِمْ وَ شَرِّهِمْ،
تو آپ کے لئے اپنے مکر کے جال بچھانے لگے، اور اپنی مخصوص سفیانی چالاکیوں اور شرارت کے ساتھ آپ کے ساتھ قتال کرنے لگے
وَ أمَرَ اللَّعينُ جُنُودَهُ، فَمَنَعُوكَ الْماءَ وَ وُرُودَهُ،
ملعون عمر بن سعد نے اپنے لشکروں کو حکم دے دیا کہ پانی حسین (ع) تک نہ پہنچ سکے
وَ ناجَزُوكَ الْقِتالَ، وَ عاجَلُوكَ النِّزالَ،
سب لوگ تیزی کے ساتھ آپ سے قتال کرنے لگے اور پے در پے ملے جلے حملے ہونے لگے
وَ رَشَقُوكَ بِالسِّهامِ وَ النِّبالِ،
آپ کو تیروں سے چھلنی کر دیا
وَ بَسَطُوا إلَيْكَ أكُفَّ الإصْطِلامِ،
سب نے ظلم و ستم کے ہاتھ آپ کی طرف بڑھادیئے
وَ لَمْ يَرْعَوْا لَكَ ذِماماً، وَ لا راقَبُوا فيكَ أثاماً، في قَتْلِهِمْ أوْلِياءَكَ، وَ نَهْبِهِمْ رِحالَكَ،
نہ انہوں نے آپ کے بارے میں اپنی کسی ذمہ داری کو دیکھا نہ یہ کہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو قتل کرنے میں اور آپ کے سامان کو لوٹنے میں وه کتنے زبردست گناه کے مرتکب ہوں گے!
وَ أنْتَ مُقَدَّمٌ فِي الْهَبَواتِ، وَ مُحْتَمِلٌ لِلأذِيّاتِ،
آپ غبار جنگ میں دھنسے ہوئے تھے اور ہر ایک اذیت اٹھا رہے تھے
قَدْ عَجِبَتْ مِنْ صَبْرِكَ مَلائِكَةُ السَّماواتِ،
آپ کا صبر دیکھ کر تو ملائکہ افلاک بھی تعجب کررہے تھے
فَأحْدَقُوا بِكَ مِنْ كُلِّ الْجِهاتِ،
ظالموں نے ہر طرف سے آپ کو گھیرلیا
وَ أثْخَنُوكَ بِالْجِراحِ،
اور زخم پر زخم پہنچا کر آپ کو مضمحل کردیا
وَ حالُوا بَيْنَكَ وَ بَيْنَ الرَّواحِ،
دم لینے کی مہلت نہ دی
وَ لَمْ يَبْقَ لَكَ ناصِرٌ،
آپ کا کوئی مددگار نہ رہا تھا
وَ أنْتَ مُحْتَسِبٌ صابِرٌ،
بیکسی کے عالم میں انتہائی صبر وضبط کے ساتھ
تَذُبُّ عَنْ نِسْوَتِكَ وَ أوْلادِكَ،
آپ اپنی مستورات اور بچوں کی طرف سے ہجوم اشقیاء کو ہٹا رہے تھے
حَتّى نَكَسُوكَ عَنْ جَوادِكَ،
یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو گھوڑے سے گرادیا
فَهَوَيْتَ إلَى الأرْضِ جَريحاً،
آپ زخموں سے چور ہوکر زمین پر گرے
تَطَؤُكَ الْخُيُولُ بِحَوافِرِها،
لشکر کے گھوڑے اپنے سموں سے آپ کو کچل رہے تھے
وَ تَعْلُوكَ الطُّغاةُ بِبَواتِرِها،
اور سرکش ستمگر اپنی تلواریں لئے آپ پر چڑھے چلے آتے تھے
قَدْ رَشَحَ لِلْمَوْتِ جَبينُكَ،
موت کا پسینہ آپ کی پیشانی پر آیا ہوا تھا
وَ اخْتَلَفَتْ بِالاِنْقِباضِ وَ الإنْبِساطِ شِمالُكَ وَ يَمينُكَ،
اور آپ کے دست و پا ادهر ادهر سمٹتے اور پھیلتے تھے
تُديرُ طَرْفاً خَفِيّاً إلى رَحْلِكَ وَ بَيْتِكَ،
آپ چشم نیم وا سے اپنے کنبہ اور اپنے بچوں کو دیکھ رہے تھے
وَ قَدْ شُغِلْتَ بِنَفْسِكَ عَنْ وُلْدِكَ وَ أهاليكَ،
حالانکہ اس وقت آپ کی خود کی حالت تو ایسی تھی کہ آپ کو اپنے کنبہ کا اور بچوں کا دهیان نہ آسکتا تھا
وَ أسْرَعَ فَرَسُكَ شارِداً، إلى خِيامِكَ قاصِداً، مُحَمْحِماً باكِياً،
اس وقت آپ کا گھوڑا ہنہناتا اور روتا ہوا آپ کے خیام کی طرف چلا
فَلَمّا رَأيْنَ النِّساءُ جَوادَكَ مَخْزِيّاً،
جب اہلِ حرم نے آپ کے رہوار کو بے سوار دیکھا
وَ نَظَرْنَ سَرْجَكَ عَلَيْهِ مَلْوِيّاً،
اور زین اسپ کو نیچے ڈھلکا ہوا دیکھا
بَرَزْنَ مِنَ الْخُدُورِ،
تو بے قرار ہوکر خیموں سے نکل پڑیں
ناشِراتِ الشُّعُورِ،
بال بکھرائے ہوئے
عَلَى الْخُدُودِ لاطِماتِ الْوُجُوهِ سافِراتٍ،
منہ پر طمانچے مارتے ہوئے جبکہ پردے کا دھیان نہ تھا
وَ بِالْعَويلِ داعِياتٍ،
نوحہ وبکا کرتے ہوئے اپنے بزرگوں کو پکارتے ہوئے
وَ بَعْدَ الْعِزِّ مُذَلَّلاتِ،
جبکہ اپنی اس مخصوص عزت و شوکت کے بعد حقارت کی نظر سے دیکھے جا رہی تھیں
وَ إلى مَصْرَعِكَ مُبادِراتٍ،
سب کے سب [آپ] کی قتل گاہ کی طرف تیزی سے جا رہے تھے
وَ الشِّمْرُ جالِسٌ عَلى صَدْرِكَ،
آه شمر اس وقت آپ کے سینے پہ بیٹھا ہوا تھا
وَ مُولِغٌ سَيْفَهُ عَلى نَحْرِكَ،
اور اپنا خنجر آپ کی گردن پر پهیررہا تها
قابِضٌ عَلى شَيْبَتِكَ بِيَدِهِ،
ریشِ مبارک ظالم اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے
ذابِحٌ لَكَ بِمُهَنَّدِهِ،
اپنی ہندی تلوار سے آپ کو ذبح کر رہا تها
قَدْ سَكَنَتْ حَواسُّكَ،
آپ کے دست وپا بے حرکت ہوگئے (آپ کے ہوش و حواس ساکن ہوگئے)
وَ خَفِيَتْ أنْفاسُكَ،
اور سانس رک گیا
وَ رُفِعَ عَلَى الْقَناةِ رَأْسُكَ،
نیزه پر سر اقدس کو اٹھایا گیا
وَ سُبِيَ أهْلُكَ كَالْعَبيدِ،
اور اہلِ حرم کو غلاموں کی طرح قید کرلیا گیا
وَ صُفِّدُوا فِي الْحَديدِ فَوْقَ أقْتابِ الْمَطِيّاتِ،
اور آہنی زنجیروں میں جکڑ کر اونٹوں پر بٹھالیا گیا
تَلْفَحُ وُجُوهَهُمْ حَرُّ الْهاجِراتِ،
دن کے دوپہر کی گرمیاں ان کے چہروں کو جھلسا رہی تھی
يُساقُونَ فِي الْبَراري وَ الْفَلَواتِ،
اور وه غریب بیابانوں اور جنگلوں میں پھرائے جا رہے تھے
أيْديهِمْ مَغلُولَةٌ إلَى الأعْناقِ،
ہاتھ ان کے گردنوں سے بندھے ہوئے تھے
يُطافُ بِهِمْ فِي الأسْواقِ،
اور بازاروں میں ان کو پھرایا جا رہا تھا
فَالْوَيْلُ لِلْعُصاةِ الْفُسّاقِ،
وائے ہو ان نافرمانوں فاسقوں پر
لَقَدْ قَتَلُوا بِقَتْلِكَ الإسْلامَ،
جنہوں نے آپ کو قتل کرکے اسلام کو تباه کردیا
وَ عَطَّلُوا الصَّلوةَ وَ الصِّيامَ،
نمازوں کو روزوں کو معطل کردیا
وَ نَقَضُوا السُّنَنَ وَ الأحْكامَ،
شریعت کے چلن کو اور احکام کو توڑدیا
وَ هَدَمُوا قَواعِدَ الإيمانِ،
ایمان کی عمارت کو ڈھا دیا
وَ حَرَّفُوا آياتِ الْقُرْآنِ،
اور قرآنی آیات میں تحریف کی
وَ هَمْلَجُوا فِي الْبَغْيِ وَ الْعُدْوانِ،
اور بغاوت وسرکشی میں دھنستے چلے گئے
لَقَدْ أصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مَوْتُوراً،
آپ کے قتل سے رسول الله (ص) مظلوم قرار پاگئے
وَ عادَ كِتابُ اللهِ عَزَّوَجَلَّ مَهْجُوراً،
آپ کے قتل سے کتابِ خدا پر لاوارثی چھا گئی
وَ غُودِرَ الْحَقُّ إذْ قُهِرْتَ مَقْهُوراً،
اور آپ کے ستائے جانے سے اصل میں حق ستایا گیا
وَ فُقِدَ بِفَقْدِكَ التَّكْبيرُ وَ التَّهْليلُ،
آپ کے نہ ہونے سے اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ ان آوازوں میں کوئی روح نہ رہی
وَالتَّحْريمُ وَ التَّحْليلُ، وَ التَّنْزيلُ وَ التَّأْويلُ،
حرام و حلال کا امتیاز، قرآن اور قرآن کے معانی کا تعین سب ضائع ہوگیا
وَ ظَهَرَ بَعْدَكَ التَّغْييرُ وَ التَّبْديلُ، وَ الإلْحادُ وَ التَّعْطيلُ، وَ الأهْواءُ وَ الأضاليلُ، وَ الْفِتَنُ وَ الأباطيلُ،
آپ کے بعد شریعت میں کهلی ہوئی تبدیلیاں، فاسد عقیدے سے حدود شریعت کا تعطل، نفسانی خواہشوں کا زور، گمراہیاں فتنے اور غلط چیزوں کا ظہور ہوا
فَقامَ ناعيكَ عِنْدَ قَبْرِ جَدِّكَ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ،
غرض کہ آپ کی سنانی سنانے والا آپ کے جد امجد کی قبر کے پاس کهڑا ہوا
فَنَعاكَ إلَيْهِ بِالدَّمْعِ الْهَطُولِ، قائِلا:
اور آپ کی سنانی برستے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ رسول الله (ص) کو یہ کہتے ہوئے سنائی کہ:
يا رَسُولَ اللهِ، قُتِلَ سِبْطُكَ وَ فَتاكَ،
یا رسول الله! آپ کا فرزند آپ کا بچہ قتل کردیا گیا
وَ اسْتُبيحَ أهْلُكَ وَ حِماكَ،
اور آپ کے گھروالوں اور جانثاروں کو ماردیا گیا
وَ سُبِيَتْ بَعْدَكَ ذَراريكَ،
آپ کے بعد آپ کی ذرّیت کو قید کیا گیا
وَ وَقَعَ الْمَحْذُورُ بِعِتْرَتِكَ وَ ذَويكَ،
اور آپ کی ذریت و اہل بیت کو وہ دکچ دیئے گئے جن سے ان کو بچانا امت پر فرض تھا۔
فَانْزَعَجَ الرَّسُولُ، وَ بَكى قَلْبُهُ الْمَهُولُ،
روح اسلام کو انتہائی قلق ہوا اور آنحضرت کا قلب نازک گریاں ہوا
وَ عَزّاهُ بِكَ الْمَلائِكَةُ وَ الأنْبِياءُ،
ملائکہ اور انبیاء نے ان کو آپ کا پرسہ دیا
وَ فُجِعَتْ بِكَ اُمُّكَ الزَّهْراءُ،
آپ کے قتل ہونے سے آپ کی ماں فاطمہ زہرا (س) بے تاب ہوگئیں
وَ اخْتَلَفَتْ جُنُودُ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ، تُعَزّي أباكَ أميرَالْمُؤْمِنينَ،
ملائکہ مقربین کے ایک کے بعد ایک لشکر اترنے لگے جو آپ کے باپ امیرالمومنین (ع) کو پرسہ دے رہے تهے
وَ اُقيمَتْ لَكَ الْمَآتِمُ في أعْلا عِلِّيّينَ،
اور اعلی علیین میں آپ پر نوحہ وماتم کررہے تهے
وَ لَطَمَتْ عَلَيْكَ الْحُورُ الْعينُ،
آپ کے غم میں حورانِ جنت اپنا منہ پیٹ رہی تهیں
وَ بَكَتِ السَّماءُ وَ سُكّانُها،
آسمان اور آسمان کے باشندے آپ پر روئے
وَ الْجِنانُ وَ خُزّانُها،
اور جنت کے خزینہ دار روئے
وَ الْهِضابُ وَ أقْطارُها،
پہاڑ قطار در قطار روئے
وَ الْبِحارُ وَ حيتانُها،
دریا اور دریا کی مچھلیاں
وَ الْجِنانُ وَ وِلْدانُها،
جنت اور غلمان
وَ الْبَيْتُ وَ الْمَقامُ،
[مکہ اور مکہ کی عمارتیں] کعبہ اور مقامِ ابراہیم
وَ الْمَشْعَرُ الْحَرامُ،
مشعر حرام
وَ الْحِلُّ وَ الإحْلإحْرامُ،
حل و حرم سب ہی آپ کے غم میں گریاں ہوئے
اَللّهُمَّ فَبِحُرْمَةِ هذَا الْمَكانِ الْمُنيفِ،
خداوند اس بلند مرتبہ مقام کی حرمت کا واسطہ
صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ،
محمد و آل محمد پر درود بھیج
وَاحْشُرْني في زُمْرَتِهِمْ،
اور مجھ کو ان کے گروه میں محشور فرما
وَ أدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِشَفاعَتِهِمْ،
اور ان کی سفارش سے مجھے داخل جنت فرما ۔ اے کم سے کم وقت میں ہر ایک کا حساب کرنے والے
اَللّهُمَّ إنّي أتَوَسَّلُ إلَيْكَ يا أسْرَعَ الْحاسِبينَ،
اے ہر بزرگ سے کہیں زیاده بزرگ تر
وَ ياأكْرَمَ الأكْرَمينَ، وَ ياأحْكَمَ الْحاكِمينَ،
اے عالم حاکموں سے زیاده زور حکومت رکهنے والے
بِمُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِيّينَ، رَسُولِكَ إلَى الْعالَمينَ أجْمَعينَ،
واسطہ حضرت محمد مصطفی (ص) کا جو تیرے آخری پیغمبر اور تمام عالم کی طرف تیرے رسول ہیں
وَ بِأخيهِ وَ ابْنِ عَمِّهِ الأنْزَعِ الْبَطينِ، الْعالِمِ الْمَكينِ، عَلِيٍّ أميرِ الْمُؤْمِنينَ،
اور ان کے بھائی کا واسطہ جو کشاده پیشانی اور معدنِ علم وحکمت اور ہر علم میں راسخ ہیں یعنی امیر المومنین علی مرتضی (ع)
وَ بِفاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِساءِ الْعالَمينَ،
اور فاطمہ زہرا (س) کا واسطہ جو زنانِ عالم کی سردار ہیں
وَ بِالْحَسَنِ الزَّكِيِّ عِصْمَةِ الْمُتَّقينَ،
حسن مجتبی (ع) کا واسطہ جو پاک وپاکیزه اور پرہیزگاروں کی پناه گاه ہیں
وَ بِأبي عَبْدِاللهِ الْحُسَيْنِ أكْرَمِ الْمُسْتَشْهَدينَ،
اور ان کی قتل ہونے والی [اولاد] کا واسطہ
وَ بِأوْلادِهِ الْمَقْتُولينَ، وَ بِعِتْرَتِهِ الْمَظْلُومينَ،
اور ان کی مظلوم ذریت کا واسطہ
وَ بِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ زَيْنِ الْعابِدينَ،
اور علی بن حسین زین العابدین (ع) کا واسطہ
وَ بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قِبْلَةِ الأوّابينَ،
اور محمد بن علی (ع) کا واسطہ جو عبادت گذاروں کے قبلہ ہیں
وَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ أصْدَقِ الصّادِقينَ،
اور جعغر بن محمد (ع) کا واسطہ جو مجسمۂ صداقت ہیں
وَ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ مُظْهِرِ الْبَراهينَ،
اور موسی بن جعفر (ع) کا واسطہ جو دلائل حق کو ظاہر کرنے والے ہیں
وَ عَلِيِّ بْنِ مُوسى ناصِرِ الدّينِ،
اور علی بن موسی (ع) کا واسطہ جو دین کے مددگار ہیں
وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قُدْوَةِ الْمُهْتَدينَ،
اور محمد بن علی (ع) کا واسطہ جو اہل حق کے پیشوا ہیں
وَ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ أزْهَدِ الزّاهِدينَ،
اور علی بن محمد (ع) کا واسطہ جو زاہدوں سے کہیں زیاده زاہد ہیں
وَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وارِثِ الْمُسْتَخْلَفينَ،
اور حسن بن علی (ع) کا واسطہ جو ائمہ اطہارؑ کے وارث ہیں
وَالْحُجَّةِ عَلَى الْخَلْقِ أجْمَعينَ،
اور اس فرد کا واسطہ جو تمام خلق پر حجت ہیں
أنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ،
محمد و آل محمد پر درود بھیج
الصّادِقينَ الأبَرّينَ، آلِ طه وَ يس،
جو صادقین میں بہترین نیکیوں کے حامل جن کا لقب آل طہ و آل یسین ہے
وَ أنْ تَجْعَلَني فِي الْقِيامَةِ مِنَ الآمِنينَ الْمُطْمَئِنّينَ،
اور مجھے قیامت میں امن پانے والوں میں سے صاحبان اطمینان میں سے
الْفائِزينَ الْفَرِحينَ الْمُسْتَبْشِرينَ،
کامیاب ہونے والوں میں سے، خوش وخرم اور بشارت جنت پانے والوں میں قرار دے
اَللّهُمَّ اكْتُبْني فِي الْمُسْلِمينَ،
خداوندا مجھے اپنے فرمانبرداروں میں سے قرار دے (میرا نام مسلمانوں میں لکھ لے)
وَ ألْحِقْني بِالصّالِحينَ،
اور صالحین سے وابستہ رکھ
وَاجْعَلْ لي لِسانَ صِدْقٍ فِي الآخِرينَ،
میرے بعد نیکی اور بھلائی سے میرا ذکر ہو
وَانْصُرْني عَلَى الْباغينَ،
جو بغاوت وسرکشی کرنے والے ہیں ان کے مقابلہ میں مجھے فتح دے
وَاكْفِني كَيْدَ الْحاسِدينَ،
مجھے حاسدوں کے شر سے بچا
وَاصْرِفْ عَنّي مَكْرَ الْماكِرينَ،
اور بری تدبیر کرنے والوں کی تدبیر کا رخ میری طرف سے پھیردے
وَاقْبِضْ عَنّي أيْدِيَ الظّالِمينَ،
ظالموں کے ہاتھوں کو مجھ پر ظلم کرنے سے روک دے
وَاجْمَعْ بَيْني وَ بَيْنَ السّادَةِ الْمَيامينِ في أعْلا عِلِّيّينَ،
اور مجھے میرے با برکت پیشواؤں کو (محمد و آل محمد) اعلی علیین میں ایک جگہ مجتمع کردے
مَعَ الَّذينَ أنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيّينَ وَ الصِّدّيقينَ وَ الشُّهَداءِ وَ الصّالِحينَ،
انبیاء، صدیقین، شہدا اور صالحین کی رفاقت نصیب ہو کیونکہ ان حضرات کو تو نے اپنی نعمتوں سے مالامال کیا ہے
بِرَحْمَتِكَ يا أرْحَمَ الرّاحِمينَ،
اپنی رحمت کے واسطے سے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
اَللّهُمَّ إنّي اُقْسِمُ عَلَيْكَ بِنَبِيِّكَ الْمَعْصُومِ،
قسم دیتا ہوں خداوندا میں تجھ کو تیرے نبی معصوم (ص) کی
وَ بِحُكْمِكَ الْمَحْتُومِ، وَ نُهْيَكَ [نَهْيِكَ] الْمَكْتُومِ،
اور تیرے حتمی احکام کی، اور گناہوں سے بچنے کے لئے تیرے مقرره ارشادات کی
وَ بِهذَا الْقَبْرِ الْمَلْمُومِ، الْمُوَسَّدِ في كَنَفِهِ الإمامُ الْمَعْصُومُ، الْمَقْتُولُ الْمَظْلُومُ،
اور اس قبر مطہر کی جس کی زیارت کے لئے ہر طرف سے جن وانس وملک پہنچتے ہیں، جس کے پہلو میں امام معصوم شہید ظلم وستم آرام فرما رہے ہیں
أنْ تَكْشِفَ ما بي مِنَ الْغُمُومِ،
کہ میرے رنج وغم کو دور کردے
وَ تَصْرِفَ عَنّي شَرَّ الْقَدَرِ الْمَحْتُومِ،
اور میرے مقدر کی برائی کو ہٹادے
وَ تُجيرَني مِنَ النّارِ ذاتِ السَّمُومِ،
اور مجھے جہنم کی آتشِ سوزاں سے پناہ دے
اَللّهُمَّ جَلِّلْني بِنِعْمَتِكَ،
اے اللہ! میرے چاروں طرف اپنی نعمتوں کا انبار لگادے اور مجھے اتنا دے کہ میں خوش و خرم رہوں (مجھے اپنی تقسیم کی ہوئی روزی پر راضی رکھ)
وَ رَضِّني بِقَسْمِكَ،
مجھے اپنے فرمان برداری کی نصیب بنائیں۔
وَ تَغَمَّدْني بِجُودِكَ وَ كَرَمِكَ،
اور اپنے کرم کے ساتھ مجھے اختیار کر لے
وَ باعِدْني مِنْ مَكْرِكَ وَ نِقْمَتِكَ،
اور اپنی سزا اور عتاب سے دور رکھ
اَللّهُمَّ اعْصِمْني مِنَ الزَّلَلِ،
خداوندا مجھے ہر لغزش سے بچا
وَ سدِّدْني فِي الْقَوْلِ وَ الْعَمَلِ،
میرے قول و عمل کو درست کر
وَافْسَحْ لي في مُدَّةِ الأجَلِ،
مجھے عمر دراز دے
وَ اعْفِني مِنَ الأوْجاعِ وَ الْعِلَلِ،
اور امراض و اسقام سے بچا
وَ بَلِّغْني بِمَوالِيَّ وَ بِفَضْلِكَ أفْضَلَ الأَمَلِ،
اور مجھے میرے پیشواؤں کے وسیلہ سے اور اپنے فضل سے میری بہترین تمناؤں تک پہنچا
اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ اقْبَلْ تَوْبَتي،
خداوندا رحمت خاص نازل فرما محمد (ص) و آل محمد (ع) پر، اور میری توبہ کو قبول فرما
وَارْحَمْ عَبْرَتي،
اور مجھے روتا دیکھ کر رحم فرما
وَ أقِلْني عَثْرَتي،
میرے گناه بخش دے
وَ نَفِّسْ كُرْبَتي،
میرے رنج و ملال کو دور کر
وَاغْفِرْ لي خَطيئَتي،
میری خطا کو بخش دے
وَ أصْلِحْ لي في ذُرِّيَّتي،
میری اولاد کو نیک اور صالح قرار دے
اَللّهُمَّ لا تَدَعْ لي في هذَا الْمَشْهَدِ الْمُعَظَّمِ وَ الْمَحَلِّ الْمُكَرَّمِ ذَنْباً إلاّ غَفَرْتَهُ،
خداوند اس عظیم المرتبہ شہادت گاه اور اس بزرگ مرتبہ مقام پر (میری حاضری کا یہ نتیجہ) کہ میرے گناہ تو بخش چکا ہو
وَ لا عَيْباً إلاّ سَتَرْتَهُ،
میرے ہر عیب کو تو چھپا چکا ہو
وَ لا غَمّاً إلاّ كَشَفْتَهُ،
میرے ہر غم کو تو دور کرچکا ہو
وَ لا رِزْقاً إلاّ بَسَطْتَهُ،
میرے رزق میں تو کشائش کرچکا ہو
وَ لا جاهاً إلاّ عَمَرْتَهُ،
میرے گهر کے آباد رہنے کا تو حکم نافذ کرچکا ہو
وَ لا فَساداً إلاّ أصْلَحْتَهُ،
میرے کاموں کے ہر بگاڑ کو تو درست کرچکا ہو
وَ لا أمَلاً إلاّ بَلَّغْتَهُ،
میری ہر آرزوئے دل کو تو پورا کرچکا ہو
وَ لا دُعاءً إلاّ أجَبْتَهُ،
میری ہر دعا کو تو قبول کرچکا ہو
وَ لا مَضيقاً إلاّ فَرَّجْتَهُ،
میری ہر تنگی کو تو زائل کرچکا ہو
وَ لا شَمْلاً إلاّ جَمَعْتَهُ،
میرے ہر انتشار کو تو اطمینان سے بدل چکا ہو
وَ لا أمْراً إلاّ أتْمَمْتَهُ،
میرے ہر کام کو تو تکمیل تک پہنچا چکا ہو
وَ لا مالاً إلاّ كَثَّرْتَهُ،
میرے ہر مال کو تو زیادہ سے زیادہ کرچکا ہو
وَ لا خُلْقاً إلاّ حَسَّنْتَهُ،
اور میرے ہر خلق کو تو نیک کرچکا ہو
وَ لا إنْفاقاً إلاّ أخْلَفْتَهُ،
اور میرے ہر انفاق کو تو عوض دے کر پورا کرچکا ہو
وَ لا حالاً إلاّ عَمَرْتَهُ،
اور میرے ہر حال کو آباد کرچکا ہو
وَ لا حَسُوداً إلاّ قَمَعْتَهُ،
اور میرے ہر حاسد کو تو تباه کر چکا ہو
وَ لا عَدُوّاً إلاّ أرْدَيْتَهُ،
اور میرے ہر دشمن کو تو ہلاک کرچکا ہو
وَ لا شَرّاً إلاّ كَفَيْتَهُ،
اور مجھے ہر شر سے تو بچا چکا ہو
وَ لا مَرَضاً إلاّ شَفَيْتَهُ،
اور مجھے ہر بیماری سے تو شفا عطا کرچکا ہو
وَ لا بَعيداً إلاّ أدْنَيْتَهُ،
اور میرے ہر ایک اپنے کو جو دور ہو تو اس کو قریب کرچکا ہو
وَ لا شَعَثاً إلاّ لَمَمْتَهُ،
اور میری پریشانی کو تو اطمینان سے بدل چکا ہو
وَ لا سُؤالاً [سُؤْلاً] إلاّ أعْطَيْتَهُ،
اور میرا ہر سوال تو مجھ کو عطا کرچکا ہو
اَللّهُمَّ إنّي أسْئَلُكَ خَيْرَ الْعاجِلَةِ،
خداوندا میں تجھ سے اس دنیا کی بہتری کا سوال کرتا ہوں
وَ ثَوابَ الآجِلَةِ،
اور اس جہانِ باقی کے ثواب کا سوال کرتا ہوں
اَللّهُمَّ أغْنِني بِحَلالِكَ عَنِ الْحَرامِ،
خداوندا مجھے وجہ حلال سے اتنا دے کہ میں حرام سے بے نیاز ہوجاؤں
وَ بِفَضْلِكَ عَنْ جَميعِ الأنامِ،
اور اپنا فضل اس درجہ میرے شاملِ حال رکھ کہ مجھے کسی کی ضرورت ہی نہ ہو
اَللّهُمَّ إنّي أسْئَلُكَ عِلْماً نافِعاً،
بار الہا میں تجھ سے اس علم کا سوال کرتا ہوں جو نفع بخش ہو
وَ قَلْباً خاشِعاً،
اور اس دل کا جس میں تیرا خوف ہو
وَ يَقيناً شافِياً،
اور اس یقین کا جو ہر شک کو دور کردے
وَ عَمَلا زاكِياً،
[پاکیزه اور مخلصانہ عمل]
وَ صَبْراً جَميلاً،
[مثالی صبر]
وَ أجْراً جَزيلاً،
اور اس اجر کا جو فراوان ہو
اَللّهُمَّ ارْزُقْني شُكْرَ نِعْمَتِكَ عَلَىَّ،
خداوندا مجھے توفیق دے کہ تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں
وَ زِدْ في إحْسانِكَ وَ كَرَمِكَ إلَىَّ،
اور اپنا احسان وکرم مجھ پر زیاده سے زیاده فرما
وَ اجْعَلْ قَوْلي فِي النّاسِ مَسْمُوعاً،
اور ایسا کر کہ سب لوگ میری بات کو مانیں
وَ عَمَلي عِنْدَكَ مَرْفُوعاً،
اور میرا ہر عمل تیری بارگاه میں قبولیت کی بلندی حاصل کرے
وَ أثَري فِي الْخَيْراتِ مَتْبُوعاً،
اور نیکیوں میں لوگ میرے نقشِ قدم پر چلیں (یعنی نیکوں کے لئے میں ایک نمونہ بن جاؤں)
وَ عَدُوّي مَقْمُوعاً،
خداوندا میرے دشمن کو بر باد کردے
اَللّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ الأخْيارِ، في آناءِ اللَّيْلِ وَ أطْرافِ النَّهارِ،
بار الہا رحمت خاص نازل فرما محمد (ص) و آل محمد (ع) پر جو تیری تمام مخلوق میں بہتر سے بہتر ہیں
وَ اكْفِني شَرَّ الأشْرارِ،
اور شریر لوگوں کے مقابلہ میں تو میری حمایت کر
وَ طَهِّرْني مِنَ الذُّنُوبِ وَ الأوْزارِ،
اور مجھے گناہوں سے اور گناہوں کے بار سے پاک کردے
وَ أجِرْني مِنَ النّارِ،
اور مجھ کو جہنم سے پناه دے
وَ أحِلَّني دارَالْقَرارِ،
اور راحت وآرام کے مقام (جنت) میں آباد کردے
وَ اغْفِرْ لي وَ لِجَميعِ إخْواني فيكَ وَ أخَواتِيَ الْمُؤْمِنينَ وَ الْمُؤْمِناتِ،
اور میرے تمام دینی بھائی بہنوں مومنین ومومنات کو اے سب سے زیاده رحم فرمانے والے اپنے رحم وکرم سے بخش دے۔
بِرَحْمَتِكَ يا أرْحَمَ الرّاحِمينَ.
اپنی رحمت کے واسطے سے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔